لکھنو،27؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) اناو میں لڑکی سے عصمت دری اور اس کے والد کے قتل معاملے میں ملزم بانگر مؤ سے بی جے پی کے ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو جمعہ کو اناؤ جیل بھیج دیاگیا۔ واضح رہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کی آج سی بی آئی ریمانڈ ختم ہوئی ہے۔ اس کے بعد سی بی آئی نے اسے خصوصی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے جیل بھیج دیاگیا۔ کہاجارہا ہے کہ کورٹ نے ممبراسمبلی کو پھر سے ریمانڈ پر دیئے جانے کے مطالبہ کو خارج کردیا، جس کے بعد انہیں اناو جیل میں شفٹ کردیاگیا۔اس سے پہلے 22 اپریل کو اناو عصمت دری معاملے میں ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے بھائی اتل سینگر اور اس کے 5 ساتھیوں کو عدالت میں پیش کیا گیاتھا، جہاں سی بی آئی کے دوبارہ ریمانڈ نہیں مانگنے پر کورٹ نے سبھی کو اناوضلع جیل بھیج دیا تھا۔اس معاملے میں سی بی آئی نے ملزم اتل سنگھ کی فارچونر اور رائفل اپنے قبضے میں لے لیا۔ متاثرہ کے والد ہی قتل کے ملزم اور ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے بھائی اتل سینگر اور اس کے 5 ساتھیوں کی ریمانڈ گذشتہ اتوار کو ختم ہوگئی تھی۔واضح رہے کہ لڑکی سے عصمت کے ملزم بی جے پی ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر نے بھائی اتل سنگھ کے خلاف مقدمہ نہ درج کرنے کے لئے انا و کی ایس پی پشپانجلی سیپیروی کی تھی۔ سینگر بھائی کی پیروی کرنے اسی دن پہنچے تھے، جس دن متاثرہ کے والد کی پٹائی کی گئی تھی۔ذائع کا کہناہے کہ 3 اپریل کو جب متاثرہ کے والد کی پٹائی کی گئی تو ممبراسمبلی شہر میں ہی تھے۔ حادثہ کے بعد انہوں نے ایس پی سے فون پر بات کی، اس کے بعد شام کو مقامی بلاک پرمکھ کے ساتھ بھائی کی پیروی کرنے کے لئے ایس پی کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ذدائع کا دعوی ہے کہ سینگر نے بھائی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کے لئے ایس پی پر دباؤ بنایا، جس کا اثر بھی دیکھنے کو ملا اور پولس نے متاثرہ کے والد کو ہی جیل بھیج دیا۔ اتنا ہی نہیں جب متاثرہ کے گھر والے مقدمہ درج کرانے گئے تو انہیں بھگا دیا گیا۔ بعد میں ضلع افسر اور لکھنو کے افسران کی مداخلت کے بعد مقدمہ درج کیا گیا، لیکن اس میں ممبراسمبلی کے بھائی کانام درج نہیں کیا گیا۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیاہے۔